بسم الله الرحمٰن الرحيم
الحمد للہ رب العالمین وصل اللهم وبارك وسلم علٰی عبدك ورسولك محمد وعلٰی اٰله وصحبه اجمعين

یا اللہ مدد

شرک کی قباحت

محب اللہ

دنیا میں بہت سی قومیں موجود ہیں، ان میں مشرک بھی ہیں جو اللہ کے سوا دوسری چیزوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان کے لئے وہ صفات تجویز کرتے ہیں جو خالص اللہ تعالٰی کی صفات ہیں اور بہت سے لوگ اللہ تعالٰی کے لئے اولاد تجویز کرتے ہیں جیسے نصارٰی کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا مانتے ہیں، یہ سب لوگ مشرک ہیں اور کافر ہیں۔

اپنے خالق اور مالک کے بارے میں اپنی طرف سے عقیدے تجویز کر‌لینا اور اس کی عبادت کے طریقے اپنی سمجھ سے بنا‌لینا اور ان میں مشغول ہونا یہ سب غلط ہے۔ عقائد اور عبادات کے لئے اسی کی جانب سے ہدایات ملنا ضروری ہے جس کی عبادت کرنا ہے اور اس کی ذات و‌صفات کے بارے میں (اس کی ہدایات کے مطابق) صحیح عقیدے رکھنے ہیں۔ جو عقیدہ اور عمل پیدا کرنے والے کی طرف سے نہ بتایا گیا ہو، اس کو زندگی کا مشغلہ بنانا عقل و‌فہم کی رو سے کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے اور اس پر نجات کی امید رکھنا اور یہ یقین کرنا کہ اس کی وجہ سے موت کے بعد عذاب سے محفوظ ہوں گے بہت بڑی نادانی ہے۔

پیدا کرنے والے کے ساتھ شرک کرنا، جس تعظیم کا (صرف) وہ (ہی) مستحق ہے اس کے علاوہ کسی دوسرے کی ایسی تعظیم کرنا یا اس کے علاوہ کسی دوسرے کی بھی عبادت کرنا عقل و‌دانش کے بھی سراسر خلاف ہے۔ پیدا کوئی کرے اور عبادت کسی اور کی ہو؟ کوئی عقل سلیم والا اس کو تسلیم نہیں کر‌سکتا، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالٰی کے سوا دوسروں کی عبادت کرنے والوں سے جب اس سلسلے میں بات کی جاتی ہے تو وہ یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ ہی کی عبادت ہے اور یہ کہ مخلوق کی عبادت خالق تک پہنچنے کا ذریعہ ہے، یہ بات کہنے کی ضرورت اس لئے محسوس کرتے ہیں کہ خود ان کی اپنی عقل بھی اس شرک کو گوارا نہیں کرتی۔

ان لوگوں سے سوال ہے کہ خالق کی عبادت کے عنوان سے جو مخلوق کی عبادت کرتے ہو، اس کو خدائے تعالٰی تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتے ہو، کیا اس بارے میں خدا تعالٰی نے تم کو کوئی ہدایت دی ہے اور کیا اس کی کوئی سند تمہارے پاس ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ …… یہ لوگ اپنے ملکی اور قومی رواج کی وجہ سے شرک کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں اور بات کو گھما پھرا کر عقل کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ (تو) ان لوگوں کا حال ہے جو کبھی غور کرنے لگتے ہیں کہ ہم شرک میں مبتلا ہیں لیکن کروڑوں افراد ایسے ہیں جو یہ بات سوچنے کی طرف توجہ کرتے ہی نہیں کہ ہم اپنے خالق کے علاوہ دوسروں کی عبادت میں کیوں لگیں؟

کچھ لوگ ایسے ہیں جو بظاہر شرک کی مخالفت کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ بھی شرک میں مبتلا ہیں، ان میں بعض لوگ ایسے ہیں جو حلول کے قائل ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمارا خالق فلاں مخلوق کے اندر مل گیا ہے اور بعض فرقے یوں کہتے ہیں کہ یہ روح جو اندر بول رہی ہے، یہی خدا ہے اور کچھ ایسے ہیں کہ خالق کے لئے اولاد تجویز کرتے ہیں، یہ سب شرک ہے۔ لا الٰہ الا اللہ صرف الفاظ ہی نہیں ہیں، اگر (کوئی) صرف زبانی گواہی دے اور دل میں اس کے خلاف عقیدہ رکھے، اس سے (وہ) مسلمان نہیں ہوتا۔‌

جب کوئی شخص لا الٰہ الا اللہ کا دل سے اقرار کرتا ہے تو اس کی زندگی ظاہر سے اور باطن سے ان سب لوگوں سے مختلف ہو‌جاتی ہے جو لا الٰہ الا اللہ کا اقرار نہیں کرتے، اس کے عقائد و‌اعمال سب لا الٰہ الا اللہ کے مطابق ہو‌جاتے ہیں، محض (یہ) مان لینا کہ خالق تعالٰی شانہ کا وجود ہے اور یہ کہ اس نے ساری کائنات کو پیدا کیا ہے، جس کا اقرار عرب کے مشرکین بھی کرتے تھے، صرف اس سے (کوئی) مسلمان نہیں ہوتا۔ (مسلمان ہونے کے لئے ضروری ہے کہ) اللہ تعالٰی کو مانے اور اس کی ذات و‌صفات کے بارے میں وہ عقائد رکھے جو اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و‌سلم کے ذریعے سنے ہیں اور اللہ تعالٰی کے تمام احکام قبول کر‌لے جو اس نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و‌سلم کے ذریعے بھیجے ہیں اور عقائد میں اور عبادات میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے تب مسلم ہوگا اور آخرت میں نجات کا مستحق ہوگا۔

٭……٭……٭

شمشیر و‌ثناء||مجموعۂ مضامین


روزنامہ اسلام||مضامین روزنامہ اسلام ||مقابل ہے آئینہ||درس قرآن|| برقی درس گاہ||نظمیں||انصار||حق چار یار کراچی||البلاغ کینیڈا||جامعہ دار العلوم کراچی||مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ||دار العلوم زاہدان|| دار العلوم دیوبند||جامعہ فاروقیہ کراچی||جامعہ خیر المدارس ملتان||جامعہ اشرفیہ لاہور||جامعۃ العلوم الشرعیۃ ساہیوال||مدرسہ انعامیہ جنوبی افریقہ||ادارہ براۓ اسلامی معاشیات||سنی لیگ ایران

@