بسم الله الرحمٰن الرحيم
الحمد للہ رب العالمین وصل اللهم وبارك وسلم علٰی عبدك ورسولك محمد وعلٰی اٰله وصحبه اجمعين

یا اللہ مدد

مولیٰنا محمد اعظم طارق شہید رحمہ اللہ تعالٰی

اے محمود

اسے امی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا غیور و‌باوفا بیٹا کہوں یا ناموس صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے باب پر ہمہ وقت چوکس کھڑا رہنے والا پہریدار؟ اسے ابن العربی کا روحانی بیٹا کہوں یا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ کا علمی وارث؟ اسے حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کا ترجمان کہوں یا امام اہل سنت مولانا عبد الشکور لکھنوی رحمہ اللہ کا فیضان نظر؟ اسے علامہ دوست محمد قریشی رحمہ اللہ کی شعلہ نوائی کی بازگشت کہوں یا مشن جھنگوی (رحمہ اللہ) کا بہادر پاسبان؟ اسے حق کا بے باک داعی کہوں یا سرکش باطل کے لئے ننگی تلوار؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایک ہی وقت میں یہ سب کچھ تھا۔ اگرچہ اس نے ابھی تک زندگی کے کٹھن سفر کی صرف بیالیس منزلیں طے کی تھیں۔ گویا عقلاء کے نزدیک اسے عاقل ہوئے ابھی صرف دو سال کا عرصہ کزرا تھا جبکہ اس سے بہت پہلے وہ کتنے ہی ذی فہم و‌فراست لوگوں کی آنکھ کا تارا بن چکا تھا۔

وہ ٢٨ مارچ ١٩٦١‌ء کو چیچہ وطنی ضلع ساہیوال کے چک ١١١/7-R میں پیدا ہوئے۔ راجپوت خاندان سے تعلق تھا، ٹوبہ چیچہ وطنی میں ابتدائی عصری و‌دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد ١٩٨٤‌ء میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ سیّد یوسف بنوری (رحمہ اللہ) ٹاؤن (کراچی) سے دورۀ حدیث کر‌کے درس نظامی کی تعلیم سے سند فراغت حاصل کی اور ساتھ ہی ایم اے عربی و‌اسلامیات میں بھی امتیازی نمبروں سے کامیابی حاصل کی۔

تعلیم سے فراغت کے بعد اگر وہ چاہتے تو دنیا کمانے کے نت نئے کامیاب تجربات کر‌سکتے تھے، اپنی خداداد صلاحیتوں کی بدولت وہ اک جہاں کو رام کر‌کے اپنے اور اپنے خاندان کے لئے وافر سامان عیش و‌طرب باہم پہنچا سکتے تھے، لیکن انہوں نے کمال فراست کا مظاہرہ کرتے ہوئے فانی عیش و‌عشرت کو ٹھکرا کر مستقبل کے لئے اُس پر خار راستے کا انتخاب کیا کہ جس کی مشقت و‌صعوبت سے لبریز تنگ و‌تاریک گلیوں سے ہو‌کر آدمی جب دوسرے کنارے پر قدم رکھتا ہے تو مسکراتے ہوئے حور و‌غلمان کو ابدی حیات اور لافانی تعمتوں کے ساتھ اپنے استقبال کے لئے بے تاب پاتا ہے۔ انہوں نے اپنے گردوپیش اور ملک بھر میں آئے روز پیش آنے والے جگر سوز واقعات، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے نفوس قدسیہ پر ہونے والی تبرابازی و‌دشنام طرازی اور اسلام کی ان مقدس شخصیات کے خلاف ملکی و‌غیر ملکی پریس کے پھیلائے ہوئے گمراہ کن زہریلے لٹریچر پر مضبوط روک لگانے کا عزم مصمم کر‌لیا۔

اس وقت کراچی میں بالخصوص اور پورے ملک میں بالعموم «سواد اعظم اہل سنت» نامی جماعت اس عظیم کام میں شب و‌روز مصروف تھی لہٰذا انہوں نے جامعہ محمودیہ کے صدر مدرس و‌ناظم اعلٰی اور جامع مسجد صدیق اکبر (رضی اللہ تعالٰی عنہ) میں خطابت کے فرائض ادا کرنے کے ساتھ ساتھ «سواد اعظم اہل سنت» میں شامل ہو‌کر عملی جدوجہد کا آغاز کیا۔ لیکن بعض اندرونی و‌بیرونی سازشوں کی وجہ سے جب سواد اعظم اہلسنت اپنے اہداف کے حصول میں کامیاب نہ ہو‌سکی اور یہ اتحاد کمزور پڑ‌گیا تو مولانا اعظم طارق رحمہ اللہ نے اپنے ہم مشن نوجوانوں کو جمع کر‌کے علاقائی سطح پر «دفاع صحابہ فورس» تیار کی، پھر کچھ ہی عرصہ بعد جھنگ کے ایک نوعمر، پست قد اور نحیف البدن مرد قلندر مولانا حق نواز جھنگوی رحمہ اللہ تعالٰی نے اس عظیم کام کا بیڑا اٹھایا اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک پر چھا گئے۔ کہتے ہیں کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے۔ اس لئے مولانا حق نواز جھنگوی رحمہ اللہ تعالٰی کی کراچی آمد پر مولانا اعظم طارق رحمہ اللہ نے دفاع صحابہ فورس کے کارکنوں سمیت «سپاہ صحابہ (رضوان اللہ علیہم اجمعین)» میں شمولیت کا اعلان کیا اور اس کے بعد اپنا سب کچھ، حتٰی کہ جان تک کو اس مشن کے لئے وقف کر‌دیا، اور پھر اپنے اخلاص، مشن سے والہانہ وابستگی اور جزبۂ قربانی کی بدولت بہت کم عرصے میں اوج ثریا کو پہنچ گئے۔ مورخ اسلام علامہ ضیاء الرحمٰن فاروقی رحمہ اللہ کی نگاہ مردم شناس نے آپ کو جماعت کے مرکزی نائب سرپرست اعلٰی، مسجد جھنگوی شہید رحمہ اللہ کی خطابت اور جھنگ کی قومی اسمبلی کی نشست کے لئے منتخب کر‌لیا۔

انہیں تحریر و‌تقریر کے میدان میں ید طولٰی حاصل تھا۔ وہ جب ہزاروں کے مجمع کے سامنے اپنے مشن کی حقانیت بیان کر‌رہے ہوتے تو یوں لگتا کہ سامعین کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ جہاں ایک طرف اپنے مشن کی حقانیت پر دلائل کے انبار لگاتے تو دوسری طرف صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمنان پر بجلی کی طرح گرجتے اور خدائی عزاب کا کوڑا بن کر برستے تھے۔ وہ جہاں مشن کی اشاعت اور سنی قوم کی ذہن سازی میں کوئی وقیفہ فرو گزاشت نہ کرتے وہیں پر دشمن کو زک پہنچانے اور اسے اپنی اوقات یاد دلانے کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ انہوں نے گلی کوچوں اور چوکوں چوراہوں پر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے دشمنان ملعونین کا تعاقب بطریق احسن کیا۔

مولانا ایثار القاسمی شہید رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد جماعت نے مولانا اعظم طارق رحمہ اللہ کو قومی اسمبلی کی نشست کے لئے نامزد کیا تو انہوں نے جھنگ کے جاگیرداروں، گدی نشینوں، سیاسی چغادریوں اور مذہبی لٹیروں سے چومکھی لڑائی لڑ کر محض اپنے مقدس مشن کے نام پر جھنگ کی نشست جیت لی۔ یوں مولانا کو کراچی کے گلی کوچوں میں شروع کی ہوئی صدائے حق کو پاکستان کے اعلٰی ایوانوں تک پہنچانے کا موقع ملا۔ اس اعلٰی ایوان میں بھی مشن کی بات کرنے میں انہوں نے کسی قسم کی مصلحت کوشی اور مفاد پرستی کو قطعاً آڑے نہ آنے دیا اور مشن جھنگوی (رحمہ اللہ) کو اعلٰی ایوانوں میں بھی ایسے ٹهوس دلائل و‌براہین کے ساتھ پیش کیا کہ سیاسی مخالفین بھی اس کی حقانیت کے معترف ہونے لگے۔

دشمنان صحابہ نے مولانا کی اہمیت کا درست اندازہ لگا لیا تھا، لہٰذا انہوں نے اپنے اندر دلائل کے میدان میں ان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ پا کر اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کئے۔ چونکہ دشمنان صحابہ کو ہر دور کے حکمرانوں اور جاگیردار طبقہ کی آشیرباد ہمیشہ حاصل رہی ہے لہٰذا اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں اکثر و‌بیشتر پابند سلاسل رکھا گیا اور انہوں نے اپنی زندگی کے سات قیمتی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارے اور مشن کو ترک کر‌کے ملنے والی بے‌بہا دولت و‌ثروت و‌عیش و‌عشرت کی لالچ اور ہر طرح کے خوف و‌دباؤ کو یکسر ٹھکرا کر مشن کی حقانیت اور اس کے ساتھ والہانہ لگاؤ کا اظہار کیا اور جیل میں اپنی تحریری صلاحیتوں کو بروئے کار لا‌کر تین ضخیم کتب تحریر فرمائیں جن میں کارکنوں کی تربیت اور ان میں حق پر استقامت و‌جزبۂ قربانی پیدا کرنے کے لئے بہت زیادہ مواد موجود ہے۔

وہ پاکستان کی تاریخ کے واحد قائد تھے جن پر ایک درجن سے زائد قاتلانہ حملے ہوئے لیکن وہ ہر بار بچتے رہے اور صحتیابی کے بعد دشمنان صحابہ کے سینے پر مونگ دلتے رہے۔ لیکن دشمنان صحابہ کا تو جینا حرام ہو‌چکا تھا اس لئے وہ ان کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ‌چکے تھے اور بالآخر ٦ اکتوبر ٢٠٠٣‌ء کو پیر کے روز شام ساڑے چار بجے اسلام آباد کی حدود میں گولڑہ موڑ پر چالیس سے زائد گولیاں مار کر مولانا کو ان کے چاروں ساتھیوں سمیت شہید کر‌دیا گیا۔ یوں دشمن اپنے تہیں خوش ہو‌گیا کہ عزم و‌استقلال کے اس باب کو ہمیشہ کے لئے بند کر‌دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ شہید کا لہو اتنا قیمتی ہوتا ہے کہ اس کے ہر قطرے سے ایک مجاہد اٹھا کرتا ہے۔ پاکستان کی پاک سرزمین پر گرنے والا یہ پاک خون قصۂ حق گوئی و‌بے باکی کو ختم کرنے کی بجائے ان جیسے لا تعداد اور نڈد اور با حوصلہ مجاہدوں کو جنم دے گا۔

٭…… ٭…… ٭

شمشیر و‌ثناء||مجموعۂ مضامین


روزنامہ اسلام||مضامین روزنامہ اسلام ||مقابل ہے آئینہ||درس قرآن|| برقی درس گاہ||نظمیں||انصار||حق چار یار کراچی||البلاغ کینیڈا||جامعہ دار العلوم کراچی||مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ||دار العلوم زاہدان|| دار العلوم دیوبند||جامعہ فاروقیہ کراچی||جامعہ خیر المدارس ملتان||جامعہ اشرفیہ لاہور||جامعۃ العلوم الشرعیۃ ساہیوال||مدرسہ انعامیہ جنوبی افریقہ||ادارہ براۓ اسلامی معاشیات||سنی لیگ ایران

@